بغداد،11؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراقی شہر بغداد کے ایک ہسپتال میں آگ لگنے سے ہلاک ہونے والے نومولود بچوں کے والدین نے اپنے نقصان کے بارے میں بتایا ہے۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ انھیں جب ان کے بچے کی باقیات دی گئیں تو وہ اسے پہچان نہ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرا بچہ جل کر سیاہ ہو چکا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 12نومولود بچے اس آگے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ان کے خیال میں آگ لگنے کی وجہ بجلی کی تاریں ہو سکتی ہیں۔ان کے علاوہ آٹھ دیگر بچوں اور 29خواتین کو اس یونٹ سے قریبی ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔یہ وقعہ شہر کے مغرب میں ہرموک ہسپتال کے میٹرنٹی یونٹ میں پیش آیا۔
بجلی کی تاروں کی وجہ سے آگ لگنا عراق میں عام ہے جس کی وجہ ان کی ٹھیک سے مرمت نہ ہونا اور ناقص وائرنگ ہے۔ اس کے علاوہ عمارتوں میں ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بھی صورتحال انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے۔36سالہ شائمہ حسین اور ان کے شوہر اس وقت ہسپتال میں اپنے دو دن کے بچے کو دیکھنے کے لیے جا رہے تھے کہ اچانک آگ لگ گئی۔ شدید دھویں کی وجہ سے ان کا راستہ بند ہو گیا تھا۔شائمہ حسین اس وقت وہاں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئیں جب کسی نہ کھڑکی توڑ کر وہاں سے نکلنے میں ان کی مدد کی۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے زخمیوں کی طرف دیکھا، وہ جھلس چکے تھے، وہ انتہائی درد ناک نظارہ تھا۔میرے لیے بچہ پیدا کرنا بہت مشکل تھا، مجھے اس کے لیے علاج کروانا پڑا تھا، اور اس تمام کوششوں کے بعد مجھے جلا ہوا بچہ ملا۔
ایک والدہ نے کہاکہ مجھے یہ بچہ ایک کارڈبورڈ کے ڈبے میں ملا لیکن مجھے نہیں پتا کہ یہ ہمارا ہی بچہ ہے یا سپنج کا ایک ٹکڑا ہے۔ وہ بالکل کوئلے جیسا دکھائی دے رہا تھا۔30سالہ حسین عمر کو ڈر ہے کہ ایک ہفتہ قبل پیدا ہونے والے ان کے جڑواں بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔حسین عمر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے ان سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو بغداد کے دیگر ہسپتالوں میں تلاش کریں، لیکن انھیں بچے نہیں ملے۔ان کا کہنا تھا کہ میں بچوں کی ماں کو نہیں بتا سکتا کیونکہ وہ ابھی آپریشن کے بعد صحتیاب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔میں اپنے بچے اور بچی کو واپس چاہتے ہوں، حکومت کو انھیں مجھے واپس دینا ہی ہوگا۔عشرق احمد جاسر جو کہ چار دن قبل پیدا ہونے والے اپنے بھتیجے کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں، اس حادثے کے لیے حکومت کو الزام دیتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم ہسپتال میں کام کرنے والوں کو ہزاروں عراقی دینار دیتے ہیں تاکہ وہ ہمیں اندر جا کر اپنے پیاروں کو دودھ اور خوراک جیسے بنیادی اشیا فراہم کر سکیں، جو کہ وہ مہیا نہیں کرتے۔یہ ایک بدعنوان حکومت ہے جسے اپنے شہریوں کی کوئی پروا نہیں ہے اور اس نے ایسا ہونے دیا۔
وزارت صحت کے مشیر ڈاکٹر امیر المختار نے بتایا کہ آدھی رات کو جب یہ آگ لگی تو اس وقت میٹرنٹی یونٹ میں 20بچے موجود تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ آگ کے شعلے انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل گئے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا۔وزارت صحت ہی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بچ جانے والے 19بچوں اور خواتین کو آگ سے جلنے اور دھواں اندر جانے کی وجہ سے طبی امداد کی ضرورت ہے۔بغداد میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار جاسم الحجامی کے حوالے سے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ یہ ہسپتال بہت پرانا ہے اور اس میں آگ بجھانے کے آلات بھی نہیں ہیں۔